17 اپریل 2010 - 19:30

اسٹینلے مک کرسٹل نے کہا کہ کرزئی حکو مت کی جانب سے طالبان کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کا اطلاق غیر ملکی جنگجوؤں پر نہیں ہوگا ۔

کابل میں نیٹو فورسز کے امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے مک کرسٹل نے کہا ہے کہ طالبان کے اتحادی غیر ملکی جگنجوؤں کو یا تو فرار ہونا یا پھر مقابلہ کرنا پڑے گا ۔ اس کے سوا اُن کے پاس دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ انٹرنیٹ پر جاری وڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی جنگجوؤں کو افغان معاشرے میں دوبارہ منظم نہیں ہونے دیں گے اورانہیں گرفتار یا ہلاک کردیا جائے گا ۔جنرل اسٹینلے مک کرسٹل نے کہا کہ کرزئی حکو مت کی جانب سے طالبان کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کا اطلاق غیر ملکی جنگجوؤں پر نہیں ہوگا ۔ واضح رہے کہ انکا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ نے دہشت گردوں پر پابندی کی فہرست سے پانچ اہم طالبان رہنماؤں کے نام خارج کردیے ہیں اور امریکا نے بھی طالبان سے مذاکرات کے لئے افغان حکومت کی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جن طالبان رہ نماؤں کے نام پابندیوں کی فہرست سے خا رج کئے گئے ہیں ان میں طالبان دور کے وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل، سابق نائب وزیر تجارت فضل محمد فیضان،، وزرات خارجہ کے سابق افسر شمس الصفا، سابق نائب وزیرِ منصوبہ بندی محمد موسیٰ اور سابق نائب وزیر سرحدی امور عبدالحکیم شامل ہیں ۔فیصلے کے مطابق ان پانچ طالبان رہنماؤں پر سفری پابندیاں ختم اور ان کے منجمد اثاثے بحال کردیے جائیں گے ۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کینیڈا میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ہتھیار ڈالنے والے طالبان کو متبادل راستہ فراہم کرنے میں افغان حکومت کی مدد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا افغان طالبان سے مفاہمت کے لئے صدر کرزئی کے اقدامات کی حمایت توکرتا ہے لیکن صدر کرزئی کو اس سلسلے میں اپنی تجاویز اور منصوبہ بندی سے آگاہ کرنا چاہئے تاکہ امریکی حکومت ان تجاویز کو سمجھ سکے۔